26 مارچ 2012 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے جرمن ٹی وی چینل زیڈ ڈی ایف کو انٹرویو دیتے ہوۓ کہا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کا مخالف ہے اور وہ ان ہتھیاروں کے استعمال کو اخلاق اور انسانیت کے منافی جانتا ہے۔

ابنا: ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے مزید کہا کہ ایران بین الاقوامی قوانین کے تحت اور قانون و عدل کا خیال رکھے جانے کے ساتھ ایٹمی توانائي سے استفادے کا خواہاں ہے اور وہ اسی اصول پر تاکید کے ساتھ دباؤ اور دھمکیوں کے مقابلے میں ڈٹا ہوا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران این پی ٹی کا رکن ملک ہے اور اس کی ایٹمی سرگرمیاں ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کی زیر نگرانی جاری ہیں۔ ایٹمی توانائي کی عالمی ایجنسی کی متعدد رپورٹوں میں بھی اس بات کی تصدیق کی جا چکی ہےکہ ایران این پی ٹی کی پابندی کرتا ہے۔ بنابریں ایران کا اس ایجنسی کے قوانین کے تحت اپنے حقوق سے ہمکنار ہونا ایک واضح امر ہے۔ لیکن اس حقیقت کے باوجود امریکی صدر نے پیر کے دن جنوبی کوریا کے دارالحکومت سئول میں جوہری سلامتی کے بین الاقوامی اجلاس کے موقع پر ایک بار پھر بے بنیاد الزامات کو دہراتے ہوۓ ایران سے کہا ہے کہ وہ اپنا ایٹمی پروگرام ترک کر دے اور بقول ان کے آمنے سامنے سے پرہیز کرے۔

امریکہ اور اس سے ہم آہنگ ممالک کے رویۓ سے اس حقیقت کی تصدیق ہوجاتی ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران پر دباؤ ڈالے جانے کی وجہ ایٹمی معاملے پر اس کی تشویش نہیں ہے کیونکہ اس تشویش کی تو کوئي وجہ ہی نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران کے ساتھ امریکہ کی دشمنی کا سبب اس کی تسلط پسندانہ اور اجارہ دارانہ پالیسیاں اور ایران کی ترقی و پیشرفت کے ساتھ اس کی مخالفت ہے۔ امریکہ ایران پر دہشتگردی کی حمایت ، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کی کوشش کے الزامات لگا کر در حقیقت اپنی ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکہ کے ایران مخالف اقدامات کا آغاز انقلاب اسلامی کی کامیابی کے ساتھ شروع ہوگیا تھا۔ اور ان اقدامات میں امریکی بینکوں میں موجود ایرانی اثاثوں کا منجمد کیا جانا ، مشرقی ایران میں واقع طبس کے علاقے میں فوجی کارروائي ، ایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران صدام حکومت کی حمایت ، عراق کو اسلحہ فراہم کرنا ، ایران کے تیل بردار بحری جہازوں پر حملہ اور خلیج فارس میں ایران کے ایک مسافر بردار ہوائي جہاز پر حملہ اور اس میں سوار دو سو نوے افراد کی شہادت جیسے اقدامات شامل ہیں۔

امریکہ کےایران مخالف مخاصمانہ اقدامات کا سلسلہ بدستور جاری ہے ۔ اب امریکہ ایران پر وسیع پیمانے پر پابندیاں لگا کر ایران کی ترقی و پیشرفت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا چاہتا ہے۔ البتہ ایران کے خلاف سیاسی لفاظی ، اقتصادی پابندیاں اور فوجی دھمکیاں سالہا سال سے جاری ہیں لیکن امریکہ اس بات کو بخوبی جانتا ہے کہ ملت ایران کے ارادے پر ان پالیسیوں کا کبھی کوئي اثر نہیں پڑا ہے۔ جیسا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا ہے کہ یہ پالیسیاں ہر گز کامیاب نہیں ہوں گی اور امریکہ کو اپنے رویۓ میں اصلاح کرنا ہوگی۔ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی ترقی و پیشرفت کے مقصد سے پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی سے استفادے کا پکا ارادہ رکھتا ہے اور وہ دباؤ کا ڈٹ کر مقابلہ کرتا رہے گا اور جیسا کہ رہبرانقلاب اسلامی نے حال ہی میں فرمایا ہے کہ اگر ایران کے خلاف فوجی کارروائي کی گئي تو وہ بھی ممکنہ حملے سے ملتا جلتا جوابی حملے کرے گا۔..... /169